Templates by BIGtheme NET
Home » تعارف

تعارف

حدیث ٹی وی کا سفر … اپریل2006 سے 2015 تک

اللہ تعالیٰ اس شخص کے چہرے کو تروتازہ رکھے … جو میری حدیث سنے، اور لوگوں تک پہنچائے۔ (مفہوم حدیثِ نبویﷺ)

الیکٹرانک میڈیا میں کتاب وسنت کی اولین آواز

 دورحاضر میں میڈیا کی اہمیت سے کسی کو انکارنہیں ۔ الیکٹرانک میڈیا نے خصوصاً معاشروں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ہمارے ہاں بدقسمتی سے مثبت سوچ اور دینی روایات کے حامل افراد میڈیا پر تنقید تو کرتے ہیں لیکن اس شعبے میں متبادل پیش کرنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کرتے ۔  ملک میں جہاں ایک طرف فحاشی وعریانی عام کی جا رہی ہے تو دوسری جانب دین کے نام پر رسوم ورواج اور شرک وبدعات تک کو فروغ دیا جاتا ہے ۔ آج سے نوسال قبل میڈیا کے میدان میں اسلام کی سچی تصویر پیش کرنے کے حوالے سے صورتحال انتہائی افسوسناک تھی۔کتاب وسنت کی کھری دعوت کا کوئی بھی پلیٹ فارم موجود نہیں تھا۔ معاشرے میں من گھڑت نظریات  پھیلائے جا رہے تھے جبکہ جہالت کے اس طوفان کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں تھا ۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب الیکٹرانک میڈیا معاشرے کی تباہی میں بنیادی کردار ادا کر رہا تھا ۔  بہت سے دینی حلقے ابھی تک ویڈیو بنانے کے حوالے سے قائل نہیں ہو سکے تھے ۔ ان حالات میں ایک ٹی وی چینل کے قیام کی بات کرنا کوئی معمولی بات نہ تھی ۔لیکن گوجرانوالہ میں مصروف عمل چند باہمت افراد نے جہالت وگمراہی کے اس گھٹاٹوپ اندھیرے میں علم وحکمت اور قرآن و حدیث کی ایک شمع جلانے کی ٹھان لی ۔ ان  اصحاب ِبصیرت نے معاشرے کی  اس دیرینہ  ضرورت کا احساس کیا ۔

حدیث ٹی وی کا قیام:

حدیث ٹی وی کے قیام کا مقصد الیکٹرانک میڈیا کے میدان میں اسلامی تعلیمات کو احسن انداز سے پیش کرنا ہے ۔عوام الناس کو گمراہی سے نجات دلا کر انہیں اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم و اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جھلک دیکھانا ہے ۔ اس چینل نے ویڈیوز کے ذریعے دعوت وتبلیغ کا فریضہ سرانجام دینے کے کھٹن راستے کا انتخاب کیا ۔  مالی وسائل کی کمی تو ایک مسئلہ تھی ہی لیکن بہت سے دینی حلقے بھی اس نئی طرزِ دعوت کو کچھ زیادہ پسند نہیں کرتے تھے ۔ یہ ایک منفرد فریضہ تھا جسے الحمداللہ حدیث ٹی وی کی انتظامیہ بخوبی نبھانے میں کامیاب رہی ۔ یہ امید کی وہ پہلی کِرن تھی جس کی بنیادوں میں کئی خواب سجائے گئے ۔مقصد یہ تھا کہ اس قدر انتھک محنت کی جائے کہ جس کے باعث اس چینل کی وساطت سے دیگر سیٹلائیٹ ٹی وی چینلز قائم ہوں اور معاشرے میں پھیلتی مایوسی وگمراہی کو کچھ کم کیا جا سکے ۔ بے سروسامانی کی حالت میں ایک عظیم مقصد  کے حصول کے لئے کام کا آغار کر دیا گیا ۔

افتتاحی تقریب:

حدیث ٹی وی کی تاریخ میں 19 اپریل 2006ء کا دن انتہائی اہم ترین حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اسی دن اس خواب کی تکمیل ہوئی ۔ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے اپنی علمی گفتگو سے اس چینل کا آغاز کیا۔ یہ یقیناً تاریخی دن تھا کہ جب ایک اہم علمی مرکز جامعہ ریاض الجنہ میں منعقدہ اس تقریب میں علماء وسکالرز کی ایک خوبصورت بزم سجی تھی ۔ہر کسی نے اپنی نیک خیالات کا اظہار کیا ۔ پرعزم چہرے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ سب اس اہم ترین ضرورت کے حوالے سے کس قدر پیاسے تھے ۔ گویا کہ سب کو ان کی تمناؤں کا حاصل مل گیا ہو۔ معاشرے میں قرآن وحدیث کی سچی دعوت کا فروغ کی تمنا ہر دل میں ہوتی ہے اور یہی خواب جب پورا ہورہا تھا تو سب انتہائی پرجوش تھے ۔

یہ خواب کس نے دیکھا ؟

9 سال  کامیابی کے ساتھ نشریات ایک اہم کارنامہ ہے ۔ اوریہ سب  حدیث ٹی وی  کا  خواب  دیکھنے  اور  اسے حقیقت کا  روپ دھارنے والے بانی حافظ ندیم احمد خلیل کی محنتوں کا ثمر ہے ۔ انہوں نے ہی معاشرے کی اس دیرینہ ضرورت  کا  احساس کرتے  ہوئے  ایک باقاعدہ ٹی وی  چینل کے ذریعے دعوت دین پھیلانے کا سپنا  سینے میں سجایا۔  مخلص دوست ڈھونڈے  اور  اس چینل کو ابتدائی طور پر پیپلز  کالونی  گوجرانوالہ کے   فائیو سٹار  نامی کیبل نیٹ ورک پر لانچ کر دیا ۔ ویڈیو بنانے اور اسے نشر کرنے کے لئے تیار کرنا  ایک انتہائی مہنگا عمل ہے،  جس کے لئے کثیر سرمایہ درکار ہوتاہے۔ چینل کے لئے فوری طورپر سٹوڈیو بنایا گیا اور حافظ ندیم احمد نے  اپنے کچھ ساتھیوں سے مل کر  ایک لاکھ روپے مالیت کا کیمرہ خریدا  اور ویڈیو  ریکارڈنگز  کا آغاز کیا۔چینل کو ابتداء میں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مگرچینل لانچ ہوتے ہی عوام الناس کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی اور لوگ اس سچی وکھری دعوت کے اظہار پر انتہائی  پرجوش نظرآئے ۔

اصحاب خیر کا ساتھ ، پروفیشنل سٹوڈیو کا قیام اور  مارکیٹنگ :

کتاب وسنت کی تبلیغ واشاعت کے  معروف ذرائع مدارس ومساجد جو  اصحاب خیر کے تعاون سے صدیوں سے  کام کر رہے ہیں،  ان پر خرچ کرنا، ان کےلیے رقوم جمع کرنا، لوگوں کو  آمادہ  کرنا آسان ہے، مگرکتاب وسنت کی ترویج  کا ایک ایسا نیا طریقہ  جس میں ویڈیو ریکارڈنگ  ہو اور پھر   بہت زیادہ لوگوں کو تصویر کے حوالے سے  شرعی تحفظات  بھی ہوں، اس کےلیے لوگوں سے تعاون وساتھ کی بات کرنا بہت مشکل امر تھا۔مگرحدیث ٹی وی کی انتظامیہ نے تبلیغ کو نئے انداز سے روشناس کروانے کےلیے اس کو اس طرح  پلین (Plain) کیا کہ شروع میں انویسٹمنٹ کی جائے گی، کچھ عرصہ بعد جب ادارہ اپنے قدموں پہ کھڑا ہوجائے گا تو پھران شاءاللہ سپانسرشپ اور اشتہارات سے چینل چلے گا۔درمیانے درجے کا سٹوڈیو اور کیبل چینل کےلیے کل خرچ 18 لاکھ تھا، جس کو اس طریقہ سے پورا کیا گیا۔

1۔  حافظ ندیم احمد خلیل ……………………………….. 600,000

2۔  حاجی التمش خاں ………………………………….. 600,000

3۔ سیٹھ باؤ انعام  (نذیر بشیر سنز) ……………………. 600,000

سٹوڈیوگوجرانوالہ کے معروف تجارتی مرکز جی ڈی اے پلازہ میں واقع ہے۔ اس سٹوڈیو میں ریکارڈنگز  شروع ہوئی۔ جس سے عوامی دلچسپی اور پذیرائی میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا۔اس کے ساتھ ساتھ دینی جذبہ رکھنے والے مختلف افراد اور تجارتی کمپنیوں سے سپانسرشپس اور اشتہارات کے ذریعے اس کے اخراجات پورے کئے گئے ۔ قرآن و حدیث کا یہ پیغام لاکھوں لوگوں کے قلوب و اذہان کو منور کرنے لگا۔

امام کعبہ کی پاکستان آمد اور حدیث ٹی وی کا اعزاز:

مئی 2007 میں امام لحرمین الشریفین الشیخ عبدالرحمن السدیس پاکستان تشریف لائے ۔اس موقعے پر انہوں نے لاہور کے معروف الحمراء ہال میں داعیان کتا ب وسنت کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب بھی کیا ۔ حدیث ٹی وی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے امام کعبہ کے اس اجتماع کی مکمل ویڈیو کوریج کی ۔ حدیث ٹی وی واحدچینل تھا کہ جس کے پاس پورے ایونٹ کی مکمل ویڈیو کوریج موجود تھی ۔حدیث ٹی وی کی جانب سے  امام کعبہ کے اس بے مثال  خطاب کی ویڈیو سی ڈیز اور دورہ پاکستان کی سی ڈیز بھی بنائی گئیں، جنہیں ملک بھر میں بھرپور پذیرائی بھی ملی۔حدیث ٹی وی کےلیے یہ  بہت بڑی سعادت تھی۔

متنوع پروگرامز:

حدیث ٹی وی کو ابتدء سے ہی یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے عوامی مسائل کے حل اور قرآن و سنت کی سچی تعلیمات کو عوام الناس تک پہنچانے کے لئے مختلف موضوعات پر منفرد پروگرامز پیش کئے ۔ معاشرتی مسائل ، شرعی سوال و جواب ،  علوم حدیث ، قرآن فہمی ،  حمد و نعت اور دیگر موضوعات پر نامور علمائے کرام و سکالرز کے پروگرامز پیش کئے گئے،  جنہیں بڑے پیمانے پر لوگوں کی جانب سے سراہا گیا۔

نشیب و فراز کی کہانی :

ٹی وی چینل کو جہاں ایک طرف بھرپور مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے  وہیں  بہت سے حکومتی اداروں اور قوانین  کا  بھی  سامنا کرنا  پڑتا  ہے۔ حدیث ٹی وی کو بھی اس حوالے سے کئی  مشکلات  کا سامنا کرنا پڑا ۔  پیمرا  اور دیگر حکومتی اداروں کی مداخلت پر بعض اوقات ٹرانسمیشن میں تعطل بھی آتا رہا ۔  مالی وسائل بھی آڑے آتے رہے ۔ لیکن الحمداللہ اس چینل کو شروع کرنےوالوں کے جذبے ماند نہیں پڑ سکے اور انہوں نے ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اس چینل کی شمع کو جلائے رکھا ۔ جہاں ایک طرف مشکلات پیش آئیں،  وہیں بہت سے مخلص اور دینی جذبہ رکھنے والی شخصیات کا ساتھ بھی نصیب ہوا جنہوں نے اس چینل کے ساتھ ہر ممکن تعاون بھی کیا۔انہی شخصیات کے خلوص اور انتظامیہ کی انتھک محنت کی بدولت یہ چینل ترقی کی منازل طے کرتا رہا ۔ اس میں مندرجہ ذیل شخصیات نمایاں تھیں ۔

1. حافظ اسعد محمود سلفی ………………………………………………… 2. محترم جناب یحیٰ طاہر

3. حافظ محمد جاوید ………………………………………………………….. 4. حافظ عمران عریف

5. محمد ابرار ظہیر (چیف ایڈیٹر نوید ضیاء) …………………….. 6. محمد یوسف (عاطف الیکٹرک سٹور)

7. حافظ محمد امتیاز محمدی …………………………………….. 8. میاں عبدالحلیم(جو جو فوڈ انڈسٹری)

9. سیٹھ محمد سلیم (نذیربشیرسنز) …………………………….. 10. مرزا محمد آصف(یوسف کارپوریشن)

11. عبدالسمیع خان(سکائی کیبل نیٹ ورک) ………………………………….. 12. معظم رؤف (گولڈن پمپ)

13. باؤ قاسم(سٹار ٹریول) …………………………………… 14. حاجی عبدالرؤف مغل (مغل سٹیل مارکیٹ)

15.  منیراحمد مغل (ڈائی میکر) …………………………………………. 16. محمدیحیٰ(ایم یحیٰ انجینرنگ)

17. مسز رشید چوہدری 

ایک شمع اور جلی:

حدیث ٹی وی کے قیام کا اولین مقصد ہی یہ تھا کہ ا س کے ذریعے کتاب وسنت کی دعوت کو ویڈیوز کے ذریعے عام کرنے اور دینی طبقے کو الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت کا احساس دلایا جائے ۔یہ یقیناً ایک بڑا مقصد تھا اور اس کے لئے بھرپور محنت کی گئی ۔ حافظ ندیم احمد نے شبانہ روز کوششوں سے جہاں ایک طرف حدیث ٹی وی کی کامیابی کے لئے بھرپور کردار ادا کیا، وہیں دیگر  دینی  حلقوں کو بھی اس میدان میں سرگرم ہونے کی دعوت بھی دیتے رہے۔ سینیٹر پروفیسر ساجد میر اور ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے 2011 میں جماعتی پلیٹ فارم سے  ’’ پیغام ٹی وی ‘‘ کے نام سے سیٹلائیٹ پر چینل قائم کرنے کا اعلان کیا،  جس کےلیے بطور چیف آپریٹنگ آفیسر حافظ ندیم احمد کی خدمات حاصل کی گئیں۔ حافظ ندیم احمد نے پیغام ٹی وی کے لئے اپنی خدمات کا آغاز کیا تو حدیث ٹی وی کی ذمہ داری ایک باہمت نوجوان حافظ عظیم احمد کو سونپی گئی،    جو کہ اس سے پہلے حدیث ٹی وی کے کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کر رہے تھے ۔الحمداللہ انہوں نے نہ صرف حدیث ٹی وی کے ماضی کی درخشندہ روایات کو قائم رکھا بلکہ انتھک محنت اور رابطوں کے ذریعے اس چینل کی ترقی ومقبولیت کے اضافے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہیں ایک مخلص، محنتی اور باہمت ٹیم کی رفاقت بھی حاصل ہے جو کہ اس مشن کو بھرپور طریقے سے نبھا رہی ہے۔

اہداف :

حدیث ٹی وی اپنے ناظرین کو بھرپور طریقے سے دین کی دعوت پہنچا رہا ہے ۔اس کے مستقبل کے اہداف میں اس چینل کو سیٹلائیٹ پر لانچ کرنا، میڈیا کی بڑھتی  ہوئی  اہمیت کے  پیش نظر موبائل فون  کے  ذریعے تبلیغ ِ دین کو عام کرنا،  چھوٹے چھوٹے  اصلاحی کلپس اور فلرز کی تیاری، اسی طرح حدیث ٹی وی کوموبائل فونز کے ذریعے دیکھنے کے لئے ایپلیکیشن بھی بنا لی گئی، جس سے بےشمار لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔

ہم دینی جذبہ رکھنے والے احباب سے التماس کرتے  ہیں کہ وہ دعوتِ دین اور کتاب وسنت کی اشاعت کے اس منفرد منصوبے کی کامیابی کے لئے تعاون ودعاؤں کے ساتھ حدیث ٹی وی کی انتظامیہ کو ضرور یاد رکھیں۔ تاکہ ہم عوامی رہنمائی کا فریضہ بخوبی سرانجام دے سکیں ۔آمین

منجانب: انتظامیہ

 حدیث ٹی وی

پی ڈی ایف فارمیٹ میں مطالعہ کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Facebook IconTwitter IconVisit Our google+